Umayyad Dirham of Caliph `Umar II (AH 99 / AD 717-720)

Hamid b. `Abd al-Rahman, who governed from AH 99 to 102 (AD 717-721).

Historical Significance of `Umar II’s Coinage

Caliph `Umar II was widely respected for his piety, justice, and reforms. His rule was marked by efforts to implement Islamic principles in governance, including fair taxation, improved administration, and economic policies that benefited the people. His coinage reflects this commitment to Islamic values, as his dirhams followed the established Umayyad design featuring religious inscriptions, avoiding images, and maintaining high purity.

Design and Inscriptions

The dirham maintains the classical Umayyad format, with Arabic inscriptions on both sides:

  • Obverse: The Shahada (Islamic declaration of faith), emphasizing monotheism and the prophethood of Muhammad.
  • Reverse: Quranic verses, the mint name (Wasit), the Hijri year (99 AH), and the name of the governor responsible for minting.
    The annulet patterns (o o o o oo) add a unique artistic touch to the coin, distinguishing it from other dirhams of the time.

Minting Authority – Wasit Mint

Wasit, located in modern-day Iraq, was a crucial minting center during the Umayyad period. It played a significant role in producing high-quality silver dirhams used across the empire. Coins from this mint were widely circulated and are considered historically valuable due to their craftsmanship and consistency in weight and purity.

Numismatic Importance and Collector’s Value

Coins from `Umar II’s reign are highly sought after by collectors, historians, and numismatists. His reforms and policies made his rule stand out in Islamic history, making coins minted during his caliphate an essential part of early Islamic numismatic collections. Dirhams like this provide a glimpse into the economic, political, and religious aspects of the Umayyad dynasty.

Legacy and Preservation

This coin remains a valuable artifact, helping researchers and historians understand early Islamic governance, trade, and monetary systems. It is preserved under numismatic collections worldwide, ensuring that future generations can study the rich history of Islamic coinage.

درهم أموي، الخليفة عمر بن عبد العزيز (99 هـ / 717-720 م)

هذا الدرهم الفضي الأموي تم سكه خلال خلافة عمر بن عبد العزيز (99-101 هـ / 717-720 م). تم إصداره في 99 هـ (717 م) من دار السك في واسط، وهو أحد أهم مراكز سك النقود في ذلك الوقت. يتميز هذا الدرهم بوجود أنماط الحلقات (o o o o oo)، وهي سمة فريدة للعملات من هذه الفترة. تم سكه تحت إدارة الحاكم عبد الحميد بن عبد الرحمن (99-102 هـ).

الأهمية التاريخية لعملة عمر بن عبد العزيز

كان عمر بن عبد العزيز مشهورًا بعدله، وتقواه، وإصلاحاته في الحكم الإسلامي. تميز عهده بتطبيق المبادئ الإسلامية في الإدارة، وتخفيض الضرائب، وتحسين النظام الاقتصادي لصالح المسلمين وغير المسلمين. تعكس عملاته هذا الالتزام بالقيم الإسلامية، حيث تتبع التصميم الأموي التقليدي الذي يتجنب التصاوير ويركز على النقوش الدينية.

التصميم والنقوش

يتبع هذا الدرهم النمط الأموي الكلاسيكي، ويحتوي على نقوش عربية:

  • الوجه الأمامي: الشهادة (لا إله إلا الله محمد رسول الله)، تعبيرًا عن التوحيد الإسلامي.
  • الوجه الخلفي: آيات قرآنية، اسم دار السك (واسط)، تاريخ 99 هـ، واسم الحاكم.
    ويُضفي النمط الحلقي (o o o o oo) لمسة فنية مميزة على هذه العملة.

دار سك واسط – مركز مهم لصناعة النقود

كانت واسط، الواقعة في العراق حاليًا، مركزًا رئيسيًا لسك النقود خلال العهد الأموي. أنتجت هذه الدار عملات عالية الجودة، ما جعلها تُستخدم على نطاق واسع داخل الدولة الإسلامية.

الإرث التاريخي والأهمية في عالم جمع العملات

تعد دراهم عمر بن عبد العزيز ذات قيمة كبيرة لدى المؤرخين وهواة جمع العملات، حيث توفر نظرة على السياسات الاقتصادية والحكم الإسلامي في العهد الأموي.

التراث والحفظ

لا تزال هذه العملة محفوظة في مجموعات numismatic عالمية، مما يضمن بقاء هذا الإرث الإسلامي للأجيال القادمة.

اموی درہم، خلیفہ عمر دوم (99 ہجری / 717-720 عیسوی)

یہ اموی چاندی کا درہم خلیفہ عمر دوم (99-101 ہجری / 717-720 عیسوی) کے دور میں جاری کیا گیا تھا۔ یہ سکہ 99 ہجری (717 عیسوی) میں واسط ٹکسال میں تیار کیا گیا تھا، جو اس دور کے اہم ترین سکّہ ساز مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ اس سکے کی ایک خاص پہچان اس پر موجود حلقہ نما نشانات  ہیں، جو اس زمانے کے مخصوص ڈیزائن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ سکہ گورنر عبد الحمید بن عبد الرحمن (99-102 ہجری) کے دور میں جاری کیا گیا تھا۔

عمر دوم کے سکے کی تاریخی اہمیت

خلیفہ عمر دوم کو ان کی دیانتداری، عدل و انصاف، اور اصلاحات کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے دور میں اسلامی حکومت میں کئی اصلاحات کی گئیں، جن میں منصفانہ ٹیکس کا نظام، معاشی استحکام، اور اسلامی تعلیمات کے نفاذ شامل تھے۔ ان کے سکے بھی اسی نظریے کی عکاسی کرتے ہیں، جن پر اسلامی عبارتیں کندہ ہوتی تھیں اور تصاویر سے اجتناب کیا جاتا تھا۔

ڈیزائن اور تحریریں

یہ درہم روایتی اموی سکوں کے ڈیزائن پر بنایا گیا ہے، جس میں عربی تحریریں شامل ہیں:

  • سامنے کی طرف: کلمہ طیبہ، جو اسلامی عقیدے کی بنیادی تعلیمات کو اجاگر کرتا ہے۔
  • پیچھے کی طرف: قرآنی آیات، واسط ٹکسال کا نام، 99 ہجری کی تاریخ، اور گورنر کا نام درج ہے۔
    یہ سکے اپنے منفرد حلقہ نما نشانات (o o o o oo) کی وجہ سے دیگر دراہم سے منفرد نظر آتے ہیں۔

واسط ٹکسال – ایک تاریخی سکے سازی مرکز

واسط، جو کہ موجودہ عراق میں واقع ہے، اموی دور میں ایک اہم سکہ سازی مرکز تھا۔ یہاں سے جاری ہونے والے سکے اپنی اعلیٰ معیار، درست وزن، اور خالص چاندی کی بنا پر مشہور تھے اور خلافت کے مختلف علاقوں میں گردش کرتے تھے۔

سکہ کی تاریخی وراثت اور کلیکشن میں اہمیت

عمر دوم کے دور کے سکے تاریخ دانوں، سکے جمع کرنے والوں، اور ماہرین کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان کے دور میں کی گئی اصلاحات کی وجہ سے ان کے سکے اسلامی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ درہم اس وقت کے معاشی، سیاسی اور دینی نظام کی جھلک پیش کرتا ہے۔

وراثت اور تحفظ

یہ سکہ آج بھی تحقیقی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے، جو اسلامی حکومت، معیشت، اور تجارتی نظام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ مختلف تاریخی مجموعوں میں محفوظ ہے تاکہ آئندہ نسلیں اسلامی سکوں کی تاریخ کو جان سکیں۔