als – Anonymous Anbulus Coin of the Umayyad Caliphate (696-750 AD)

The Fals – Anonymous Anbulus coin is a significant example of currency from the Umayyad Caliphate era, used between 696 and 750 AD. This coin, a standard circulation coin, was part of the economic system in the early Islamic period and reflects the copper currency that circulated across the Islamic world during the Umayyad rule. The Fals had a value of 1/60th of a Dinar and was commonly used for smaller transactions. The coin’s hammered technique and Arabic inscriptions on both sides make it a remarkable example of early Islamic numismatic history.

Issuer and Historical Context

The Fals was issued during the Umayyad Caliphate (661-750 AD), one of the most significant Islamic dynasties. Under Umayyad rule, the empire expanded rapidly, and currency became essential for daily transactions and the functioning of the vast territory. The Umayyads introduced coins in a variety of denominations, including the Fals, to accommodate the increasing need for small currency. This coin represents the economic development and Islamic cultural influence that spread across the regions governed by the Umayyad Caliphs.

Coin Specifications

  • Issuer: Umayyad Caliphate
  • Coin Type: Standard circulation coin
  • Years of Issue: 696-750 AD
  • Value: 1 Fals (1/60th of a Dinar)
  • Currency Used: Dinar (661-750 AD)
  • Material: Copper
  • Weight: 4.23 grams
  • Shape: Round (irregular)
  • Minting Technique: Hammered
  • Demonetized: Yes (no longer in circulation)
  • Numista Reference: N#72618

Obverse Design and Inscriptions

The obverse of the coin features Arabic script, a defining characteristic of Islamic coinage.

  • The Arabic inscription commonly found on the obverse of these coins is often related to Islamic beliefs and authority. The script was designed to assert the Islamic presence and authority under the Umayyad rulers.
  • The use of Arabic calligraphy emphasized the spread of Islamic culture and religion through the use of the Arabic language, an essential aspect of the empire’s identity.

Reverse Design and Inscriptions

The reverse of the Fals – Anonymous Anbulus coin also contains Arabic script, completing the coin’s design with a focus on religious and political significance.

  • The reverse inscription on this type of coin typically includes mentions of the Caliphate or religious expressions, further asserting the legitimacy of the Umayyad rule.
  • The reverse design may also feature geometric patterns or other symbolic elements in line with the Islamic art style that avoided the use of human or animal representations.

Material, Technique, and Demonetization

The Fals was struck from copper, a common and accessible metal in the Islamic world at the time.

  • The hammered technique was used for minting these coins, where each coin was individually struck using a die, creating the distinctive, irregular shape of the coin.
  • This coin was eventually demonetized as the Umayyad Caliphate gave way to the Abbasid Caliphate, and the Fals was no longer in circulation. However, coins like this are important remnants of the early Islamic economy.

Rarity and Collectability

The Fals – Anonymous Anbulus coin is a rarity among collectors due to its historical significance and the limited number of surviving examples.

  • The Numista Rarity Index indicates the rarity of this coin, making it highly sought after by numismatists and collectors of Islamic coins.
  • As part of the Umayyad collection, this coin provides valuable insight into the economy and cultural practices of the time.

فلس - العملة المجهولة من أنبولوس (الخلافة الأموية 696-750 م)

عملة الفلس – العملة المجهولة من أنبولوس هي مثال بارز على العملة المستخدمة في عهد الخلافة الأموية في الفترة ما بين 696 و 750 م. كانت هذه العملة جزءًا من العملات المتداولة في بداية العهد الإسلامي وتعكس العملة النحاسية التي كانت تتداول في مختلف أنحاء العالم الإسلامي خلال فترة حكم الأمويين. كان الفلس يعادل 1/60 من الدينار وكان يستخدم بشكل شائع في المعاملات الصغيرة. تتميز العملة بتقنية الضرب باليد و النقوش العربية على كلا الجانبين، مما يجعلها مثالاً رائعاً على تاريخ النقود الإسلامية المبكرة.

الجهة المصدرية والسياق التاريخي

تم إصدار الفلس خلال الخلافة الأموية (661-750 م)، وهي واحدة من أعظم السلالات الإسلامية. تحت حكم الأمويين، توسع الإمبراطورية بسرعة، وأصبحت العملة جزءًا أساسيًا من التعاملات اليومية ووظائف الإمبراطورية الواسعة. قدم الأمويون العملات بأنواع متعددة، بما في ذلك الفلس، لتلبية الحاجة المتزايدة للعملات الصغيرة.

مواصفات العملة

  • الجهة المصدرية: الخلافة الأموية
  • نوع العملة: عملات متداولة قياسية
  • سنوات الإصدار: 696-750 م
  • القيمة: 1 فلس (1/60 من الدينار)
  • العملة المستخدمة: دينار (661-750 م)
  • المادة: نحاس
  • الوزن: 4.23 جرام
  • الشكل: دائري (غير منتظم)
  • تقنية الصك: ضرب باليد
  • تم التوقف عن التداول: نعم
  • المرجع: N#72618

الوجه الأمامي والنقوش

يتميز الوجه الأمامي للعملة بنقوش عربية، وهي سمة مميزة للعملات الإسلامية.

  • عادة ما تتعلق النقوش العربية على الوجه الأمامي لهذه العملات بالإيمان الإسلامي والسلطة السياسية.

الوجه الخلفي والنقوش

يتضمن الوجه الخلفي للعملة أيضًا نقوشًا عربية تؤكد على السلطة الإسلامية والشرعية الدينية.

  • النقوش الخلفية تتضمن غالبًا ذكر الخلافة أو العبارات الدينية التي تؤكد شرعية حكم الأمويين.

المواد والتقنية والإلغاء

تم ضرب الفلس من النحاس، وهو معدن شائع في العالم الإسلامي في تلك الفترة.

  • تم استخدام تقنية الضرب باليد لصك هذه العملات، حيث تم ضرب كل عملة على حدة باستخدام قالب.
  • تم إلغاء العملة بعد فترة مع انتقال الخلافة من الأمويين إلى العباسيين، وأصبحت العملة غير متداولة.

فلس - انبولس کی گمنام سکہ (اموی خلافت 696-750 عیسوی)

فلس – انبولس کی گمنام سکہ اموی خلافت کے دور کا ایک اہم اور تاریخی سکہ ہے، جو 696 سے 750 عیسوی کے درمیان استعمال کیا گیا تھا۔ یہ سکہ ایک معیاری کرنسی کے طور پر جاری کیا گیا تھا اور یہ ابتدائی اسلامی دور کے معاشی نظام کا حصہ تھا۔ اس سکے میں نحاس (تانبہ) کا استعمال کیا گیا تھا اور یہ اس دور میں اسلامی دنیا بھر میں گردش کر رہا تھا۔ فلس کی قیمت 1/60 دینار تھی اور اسے عموماً چھوٹے لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سکے کی ہاتھ سے ضرب کی تکنیک اور دونوں طرف موجود عربی نقوش اسے ابتدائی اسلامی سکے بازی کی ایک نمایاں مثال بناتے ہیں۔

جاری کرنے والا اور تاریخی پس منظر

فلس کو اموی خلافت (661-750 عیسوی) کے دوران جاری کیا گیا تھا، جو اسلامی تاریخ کی ایک اہم ترین سلطنتوں میں سے ایک تھی۔ اموی خلافت کے تحت، سلطنت کی تیز رفتار توسیع ہوئی اور کرنسی روزانہ کی تجارت اور وسیع علاقے کی فعالیت کے لیے ضروری ہوگئی۔ امویوں نے مختلف اقسام کے سکے متعارف کرائے، جن میں فلس بھی شامل تھا، تاکہ چھوٹی کرنسی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ یہ سکہ اموی خلفاء کے زیر حکومت علاقوں میں معاشی ترقی اور اسلامی ثقافتی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

سکے کی تفصیلات

  • جاری کرنے والا: اموی خلافت
  • سکے کا نوع: معیاری کرنسی
  • جاری ہونے کے سال: 696-750 عیسوی
  • قیمت: 1 فلس (1/60 دینار)
  • استعمال شدہ کرنسی: دینار (661-750 عیسوی)
  • مادہ: النحاس (تانبہ)
  • وزن: 4.23 گرام
  • شکل: گول (غیر معمولی)
  • پیمائش کی تکنیک: ہاتھ سے ضرب
  • منسوخ: ہاں (اب گردش میں نہیں ہے)
  • نومیستا حوالہ: N#72618

سکے کے سامنے کا ڈیزائن اور نقوش

سکے کے سامنے پر عربی تحریر موجود ہے، جو اسلامی سکے سازی کی ایک خصوصیت ہے۔

  • یہ عربی نقوش عموماً اسلامی عقائد اور اختیار سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ نقوش اموی حکمرانوں کے تحت اسلامی موجودگی اور اختیار کو ظاہر کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔
  • عربی خطاطی کا استعمال اسلامی ثقافت اور مذہب کے پھیلاؤ کو اجاگر کرتا ہے، جو اموی سلطنت کی شناخت کا ایک لازمی جزو تھا۔

سکے کے پیچھے کا ڈیزائن اور نقوش

فلس – انبولس کی گمنام سکہ کا پیچھے بھی عربی تحریر پر مشتمل ہے، جو سکے کے ڈیزائن کو مذہبی اور سیاسی اہمیت سے مکمل کرتا ہے۔

  • اس قسم کے سکے کے پیچھے کی تحریر میں عموماً خلافت یا مذہبی جملے شامل ہوتے ہیں، جو اموی حکمرانی کی جواز کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
  • پیچھے کا ڈیزائن میں ہندسی نمونے یا دیگر علامتی عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں جو اسلامی فن کے اسلوب کے مطابق ہوتے ہیں، جہاں انسان یا جانوروں کی تصویر کشی سے گریز کیا جاتا ہے۔

مادہ، تکنیک اور منسوخی

فلس کو نحاس (تانبہ) سے بنایا گیا تھا، جو اس وقت کے اسلامی دنیا میں ایک عام اور قابل رسائی دھات تھی۔

  • ہاتھ سے ضرب کی تکنیک استعمال کی گئی تھی، جہاں ہر سکہ الگ الگ ڈائی کی مدد سے مارا جاتا تھا، جس سے سکہ کی غیر معمولی شکل پیدا ہوتی تھی۔
  • اس سکے کو آخرکار منسوخ کر دیا گیا کیونکہ اموی خلافت کے بعد عباسی خلافت کا آغاز ہوا، اور فلس اب مزید گردش میں نہیں رہا۔ تاہم، ایسے سکے ابتدائی اسلامی معیشت کے قیمتی آثار ہیں۔

نایابیت اور جمع کرنے کی اہمیت

فلس – انبولس کی گمنام سکہ اپنے تاریخی اہمیت اور بچ جانے والے کم نمونوں کی وجہ سے جمع کرنے والوں میں نایاب ہے۔

  • نومیستا کی نایابیت کا اشاریہ اس سکے کی نایابیت کو ظاہر کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ اسلامی سکے کے جمع کرنے والوں اور سکے بازی کے ماہرین کے درمیان زیادہ طلب والا ہے۔
  • اموی سکے کے مجموعے کا حصہ ہونے کی وجہ سے، یہ سکہ اس دور کی معاشی اور ثقافتی روایات پر قیمتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔