Umayyad Caliphate Silver Dirham (AH 79 / AD 698-699)

This Umayyad silver dirham, minted in AH 79 (AD 698-699) at the Mah al-Basra mint, represents a crucial period in early Islamic coinage history. The coin, weighing 2.71 grams with a diameter of 27.4mm, follows the standard weight and size of Umayyad silver currency. Despite its porous surfaces, it remains in Good Very Fine (VF) condition, preserving its detailed inscriptions and historical significance.

Historical Significance of the Umayyad Dirham

During the reign of Caliph Abd al-Malik ibn Marwan (r. 685-705 AD), a monetary reform was introduced, standardizing Islamic coinage by removing images and replacing them with Islamic inscriptions. This reform aimed to establish a distinct Islamic identity in currency and reduce reliance on Byzantine and Sassanian coinage. This dirham is an example of those reformed coins, demonstrating the transition from earlier Sassanian-style Islamic coins to a fully Islamic monetary system.

Design and Inscriptions

The AR Dirham follows the classical Umayyad style, featuring Arabic inscriptions on both sides:

  • Obverse (Front): The Shahada (Islamic declaration of faith), proclaiming the oneness of Allah and the prophethood of Muhammad.
  • Reverse (Back): Quranic verses, the mint name (Mah al-Basra), and the Islamic Hijri date (79 AH).
    This design ensured the Islamic character of the coin while maintaining a functional and standardized monetary system.

Mah al-Basra Mint – A Strategic Coinage Center

Mah al-Basra, located in present-day Iraq, was an important economic and military hub of the Umayyad Caliphate. It played a key role in minting silver dirhams used in trade, taxation, and administration across the vast empire. Coins minted in Basra were widely circulated and are considered historically significant due to their high silver content and precision in design.

Numismatic Value and Collectability

Coins from AH 79 (AD 698-699) mark an essential phase in Islamic numismatics, making them highly sought after by collectors, historians, and researchers. Despite the porous surfaces, this coin’s Good VF (Very Fine) condition ensures that its inscriptions remain legible, adding to its numismatic value.

Legacy and Preservation

This silver dirham is more than just a piece of currency; it is a historical artifact that offers insights into early Islamic governance, trade, and economic policies. Preserved in various numismatic collections, it continues to serve as a testament to the evolution of Islamic coinage and monetary reforms.

درهم فضي من الخلافة الأموية (79 هـ / 698-699 م)

هذا الدرهم الفضي الأموي، الذي تم سكه في 79 هـ (698-699 م) في دار السك ماه البصرة، يمثل مرحلة مهمة في تاريخ سك النقود الإسلامية المبكرة. يبلغ وزن هذه العملة 2.71 جرامًا وقطرها 27.4 مم، وهو متوافق مع المعيار الوزني والعملاتي للدراهم الأموية. على الرغم من أن سطحها يحتوي على بعض المسام (porous)، إلا أنها بحالة جيدة جدًا (VF) مع وضوح كتاباتها التاريخية.

الأهمية التاريخية لدرهم الخلافة الأموية

في عهد الخليفة عبد الملك بن مروان (685-705 م)، تم إدخال إصلاحات نقدية مهمة جعلت العملات الإسلامية خالية تمامًا من الصور، مع التركيز على النقوش الدينية والقرآنية. كان الهدف من هذه الإصلاحات إرساء هوية إسلامية متميزة للعملة، والاستقلال عن التأثيرات البيزنطية والساسانية.

التصميم والنقوش

  • الوجه الأمامي: الشهادة (لا إله إلا الله محمد رسول الله).
  • الوجه الخلفي: آيات قرآنية، اسم دار السك ماه البصرة، وسنة 79 هـ.

دار السك ماه البصرة – مركز نقدي هام

كانت ماه البصرة، الواقعة في العراق حاليًا، مركزًا رئيسيًا لسك العملات الأموية.

القيمة النقدية والأثر التاريخي

تُعد هذه الدراهم ذات أهمية خاصة لهواة جمع العملات والمؤرخين.

الإرث والحفظ

لا تزال هذه العملة محفوظة في المجموعات التاريخية لدراسة التطور النقدي الإسلامي.

اموی خلافت کا چاندی کا درہم (79 ہجری / 698-699 عیسوی)

یہ اموی چاندی کا درہم، جو 79 ہجری (698-699 عیسوی) میں ماہ البصرہ ٹکسال میں تیار کیا گیا تھا، ابتدائی اسلامی سکے سازی کی تاریخ میں ایک اہم دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سکے کا وزن 2.71 گرام اور قطر 27.4 ملی میٹر ہے، جو اموی چاندی کے درہم کے معیاری سائز کے مطابق ہے۔ اگرچہ سکے کی سطح کچھ چھید دار (porous) ہے، لیکن یہ Good VF (بہت عمدہ) حالت میں موجود ہے، جس کی تحریریں اور تاریخی اہمیت محفوظ ہیں۔

اموی درہم کی تاریخی اہمیت

خلیفہ عبد الملک بن مروان (685-705 عیسوی) کے دور میں مالیاتی اصلاحات متعارف کروائی گئیں، جن میں اسلامی سکے کو مکمل طور پر تصاویر سے پاک کیا گیا اور اس پر قرآنی آیات اور اسلامی کلمات درج کیے گئے۔ یہ اصلاحات اسلامی سکے کو ایک مستقل شناخت دینے کے لیے کی گئیں تاکہ بازنطینی اور ساسانی سکوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔ یہ درہم ان اصلاحات کی عکاسی کرتا ہے اور اسلامی مالیاتی نظام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈیزائن اور تحریریں

یہ درہم روایتی اموی طرز کا ہے، جس پر عربی تحریریں کندہ ہیں:

  • سامنے کی طرف: کلمہ طیبہ، جو اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا اعلان کرتا ہے۔
  • پیچھے کی طرف: قرآنی آیات، ٹکسال (ماہ البصرہ) کا نام، اور اسلامی تاریخ (79 ہجری) درج ہے۔
    یہ ڈیزائن اسلامی مالیاتی نظام کی منفرد خصوصیات کو اجاگر کرتا ہے۔

ماہ البصرہ ٹکسال – ایک اہم مالیاتی مرکز

ماہ البصرہ، جو کہ آج کے عراق میں واقع ہے، اموی خلافت کا ایک اہم تجارتی اور فوجی مرکز تھا۔ یہاں سے جاری ہونے والے درہم تجارت، ٹیکس، اور حکومتی امور میں استعمال کیے جاتے تھے اور خلافت کے مختلف علاقوں میں گردش کرتے تھے۔ بصرہ کے سکے اپنی اعلیٰ معیار کی چاندی اور شاندار ڈیزائن کی بنا پر تاریخی لحاظ سے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

سکوں کی قدروقیمت اور تاریخی اہمیت

79 ہجری (698-699 عیسوی) میں جاری ہونے والے سکے اسلامی سکوں کی تاریخ میں ایک اہم دور کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے یہ ماہرین، تاریخ دانوں اور سکّہ جمع کرنے والوں کے لیے نہایت قیمتی ہیں۔ اگرچہ اس سکے کی سطح کچھ چھید دار (porous) ہے، لیکن اس کی Good VF (بہت عمدہ) حالت اس کی تحریروں کو نمایاں رکھتی ہے، جو اس کی قدروقیمت میں اضافہ کرتی ہے۔

وراثت اور تحفظ

یہ چاندی کا درہم صرف ایک سکہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ورثہ ہے، جو اسلامی حکومت، تجارت، اور معیشت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ مختلف تاریخی مجموعوں میں محفوظ ہے تاکہ آئندہ نسلیں اسلامی سکے سازی اور مالیاتی اصلاحات کی تاریخ کو جان سکیں۔