Meezab-e-Kaaba (Rehmat ka Parnala)

Introduction

Meezab-e-Kaaba, also known as “Rehmat ka Parnala” (the Gutter of the Kaaba), is an important part of the sacred structure of the Kaaba in the Masjid al-Haram in Mecca. It holds great religious significance for Muslims, symbolizing the divine mercy and blessings that flow from Allah’s house, the Kaaba. The term “Meezab” refers to the rainwater spout that directs water away from the roof of the Kaaba, ensuring the sanctity of this holy place.

Origin and Creation

The Meezab was first installed during the time of the Prophet Ibrahim (AS) and has undergone several refurbishments throughout history. Its original purpose was to channel rainwater off the Kaaba’s roof. The current Meezab, made from pure gold, was installed during the reign of the Saudi King Abdulaziz in 1979. It is positioned at the northwest corner of the Kaaba.

Design and Material

The current design of the Meezab is a beautiful example of Islamic craftsmanship. It is made of high-quality gold and is approximately 2.5 meters in length. The spout of the Meezab is placed at an angle to direct rainwater away from the Kaaba’s walls. The intricate design showcases Islamic artistry, with Quranic verses engraved on it as a sign of reverence and devotion.

Religious Significance

The Meezab-e-Kaaba is considered a symbol of Allah’s mercy. The rainwater that flows from it is believed to carry blessings and purity. Pilgrims often stand beneath the spout to pray for divine blessings, as it is thought to be a moment of grace. The structure emphasizes the sanctity of the Kaaba and its continuous connection to Allah’s mercy.

Hijri Date and Creator

The Meezab’s golden spout was first installed during the reign of King Abdulaziz in the year 1400 AH (1979 CE). However, the concept and need for a spout can be traced back to the era of the Prophet Ibrahim (AS), during the time of the construction of the Kaaba itself.

مِیزَابِ کَعْبَہ (رَحْمَت کا پَرْنَالہ)

مقدمة

مِيزابِ الكَعْبَة، الذي يُعرف أيضًا بمصرف الرحمة، هو هيكل مهم يقع على سطح مسجد الحرام في مكة المكرمة، المملكة العربية السعودية. لا يُعتبر هذا البناء مهمًا من الناحية العملية فحسب، بل له أيضًا أهمية روحية كبيرة، حيث أنه يُخلص المياه المتساقطة من سقف الكعبة، وهي علامة على رحمة الله وبركاته.

أهمية مِيزابِ الكَعْبَة

المِيزاب هو قناة ذهبية تقوم بتحويل مياه الأمطار المتساقطة من سقف الكعبة إلى مسار محدد. على مر العصور، كانت هذه المياه تعتبر رسالة من الله برحمة وبركات. وكلما هطلت الأمطار على الكعبة، فإن المياه تتدفق عبر المِيزاب، مما يصبح علامة على نزول رحمة الله على المؤمنين. يعتبر الحجاج والزوار الذين يقفون تحت تدفق هذه المياه محظوظين، حيث يرون فيه رمزًا للطهارة الروحية.

الخلفية التاريخية

يعد مِيزاب الكعبة جزءًا من بناء الكعبة منذ زمن النبي إبراهيم عليه السلام. وقد خضع هذا الهيكل لتعديلات مختلفة على مر العصور، ولكن هدفه الأساسي ظل كما هو: تصريف مياه الأمطار من بناء الكعبة. في البداية كان المِيزاب مصنوعًا من الخشب، ولكن في العصر العباسي في القرن التاسع، أمر الخليفة المأمون بتصنيعه من المعدن. وفي العصر الحديث، تم صنعه من الذهب الخالص، مما يمثل عظمة الكعبة.

المصمم والعمارة

تصميم المِيزاب يُعتبر مثالًا رائعًا على العمارة الإسلامية. بدأ استخدامه في زمن النبي إبراهيم عليه السلام، لكن التصميم الحالي وُضع في فترة الخليفة العباسي المأمون. هيكل المِيزاب الذهبي هو تحفة فنية إسلامية تزينه الكتابات التي تُمجد رحمة الله. تعكس الحرفية في صنع المِيزاب جمال الفن المعماري الإسلامي وعظمة المباني المقدسة.

الأهمية الروحية والرمزية

يُعتبر مِيزاب الكعبة ليس مجرد جزء عملي لتصريف المياه من المسجد، بل هو أيضًا رمز لرحمة الله. عندما يؤدي الحجاج مناسك الحج أو العمرة، يُذكرون بالرحمة التي ينزلها الله على عباده، ويمثل المِيزاب هذه الرحمة. المياه المتدفقة من خلاله تعتبر تطهيرًا للروح، ويرى الكثيرون فيها بركة روحية.

دور مِيزابِ الكَعْبَة في العصر الحديث

في السنوات الأخيرة، قامت الحكومة السعودية ببذل جهود كبيرة للحفاظ على مِيزاب الكعبة باعتباره جزءًا مهمًا من التراث الإسلامي. من خلال أنظمة تصريف المياه الحديثة والصيانة المستمرة، تم ضمان أن يعمل المِيزاب بشكل سليم ويحافظ على أهميته التاريخية والروحية. اليوم، هو جزء عملي ورمزي يُذكر المسلمين في جميع أنحاء العالم برحمة الله المستمرة.

مِيزابِ کَعْبَہ (رحمت کا پرنالہ)

تعارف

مِيزابِ کَعْبَہ، جسے رحمت کا پرنالہ بھی کہا جاتا ہے، ایک اہم ساخت ہے جو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں واقع مسجد الحرام کی چھت پر موجود ہے۔ یہ فن تعمیر صرف اپنی عملی حیثیت کے لیے نہیں بلکہ روحانی علامت کی حیثیت سے بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ کعبہ کی چھت سے گرنے والے پانی کو نکالتا ہے جو اللہ کی رحمت اور برکات کی علامت ہے۔

مِيزابِ کَعْبَہ کی اہمیت

مِيزاب ایک سنہری نالی ہے جو کعبہ کی چھت سے گرنے والے بارش کے پانی کو ایک مخصوص راستے میں منتقل کرتی ہے۔ صدیوں سے یہ پانی اللہ کی رحمت اور برکتوں کا پیغام سمجھا جاتا ہے۔ ہر بار جب کعبہ پر بارش ہوتی ہے، یہ پانی مِيزاب کے ذریعے بہتا ہے جو ایمان والوں پر اللہ کی رحمت کے نزول کی علامت بن جاتا ہے۔ حجاج اور زائرین کعبہ اس پانی کے بہاؤ کے نیچے کھڑے ہونے کو خوش قسمتی سمجھتے ہیں کیونکہ یہ روحانی صفائی کی علامت ہے۔

تاریخی پس منظر

مِيزاب کعبہ کا حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے ہے۔ اس میں وقتاً فوقتاً ترمیم کی گئی ہے، مگر اس کا اصل مقصد ہمیشہ یکساں رہا ہے: کعبہ کی عمارت سے بارش کے پانی کو نکالنا۔ ابتدا میں یہ نالی لکڑی کی تھی لیکن عباسی خلیفہ المامون کے دور میں نویں صدی میں اسے دھاتی بنایا گیا۔ جدید دور میں اسے خالص سونے سے بنایا گیا ہے، جو کعبہ کی عظمت کی علامت ہے۔

مُصَمم اور فن تعمیر

مِيزاب کا ڈیزائن اسلامی فن تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں ہوا، لیکن موجودہ ڈیزائن عباسی خلیفہ المامون کے دور میں وضع کیا گیا۔ اس کا سنہری ڈھانچہ اسلامی فن کا ایک شاہکار ہے جس پر اللہ کی رحمت کی تعریف کی تحریریں ہیں۔ مِيزاب کی دستکاری اسلامی فن تعمیر کی خوبصورتی اور مقدس عمارات کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔

روحانی اور علامتی اہمیت

مِيزابِ کَعْبَہ صرف مسجد کے پانی نکالنے کا ایک عملی حصہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی رحمت کی علامت بھی ہے۔ جب حجاج حج یا عمرہ ادا کرتے ہیں، تو انہیں اس رحمت کا احساس دلایا جاتا ہے جو اللہ اپنے پیروکاروں پر نازل کرتا ہے، اور مِيزاب اس رحمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے بہنے والا پانی فرد کی روح کو صاف کرنے والا سمجھا جاتا ہے اور کئی افراد اسے روحانی برکت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مِيزاب کا دورِ حاضر میں کردار

حالیہ برسوں میں سعودی حکومت نے مِيزابِ کَعْبَہ کو ایک اہم اسلامی ورثہ کے طور پر محفوظ اور برقرار رکھنے کی کوششیں کی ہیں۔ جدید نکاسی آب کے نظام اور وقتاً فوقتاً مرمت کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ مِيزاب اپنی تاریخی اور روحانی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے صحیح طریقے سے کام کرتا رہے۔ آج یہ نہ صرف ایک عملی بلکہ علامتی جزو کے طور پر موجود ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو اللہ کی جاری رحمت کی یاد دلاتا ہے۔